مجموعه ضعيف احاديث
Majmua Zaeef Ahadith
Miscellaneous
Sprinkling water on the grave
Hadith Number: 749
رش قبر النبى صلى الله عليه وسلم وكان الذى رش الماء على قبره بلال بن رباح، بدا من قبل راسه حتى انتهى إلى رجليه
“Water was sprinkled on the grave of the Noble Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). Bilal (may Allah be pleased with him) sprinkled water from a waterskin on the grave of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). He began sprinkling from the head side and continued sprinkling water up to the foot side.”
تخریج الحدیث: { «ضعيف» }:
[بيهقي فى السنن الكبري 411/3] امام شوکانی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ دو وجوہات کی بنا پر اس روایت سے استدلال درست نہیں؛ پہلی یہ کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے فعل میں کوئی حجت نہیں اور دوسری یہ کہ اس کی سند میں واقدی راوی ہے اور اس کے متعلق کلام معروف ہے۔ [السيل الجرار 721/1]
واقدی راوی کے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم رحمہ الله نے کہا ہے کہ یہ متروک ہے۔
امام احمد رحمہ الله نے اسے کذاب کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ احادیث بدل دیتاتھا۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس کے متعلق کہا ہے کہ اس میں ضعف ہے اور امام ابن عدی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی احادیث محفوظ نہیں ہیں۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: [ميزان الاعتدال 273/6 برقم 7999]
[بيهقي فى السنن الكبري 411/3] امام شوکانی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ دو وجوہات کی بنا پر اس روایت سے استدلال درست نہیں؛ پہلی یہ کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے فعل میں کوئی حجت نہیں اور دوسری یہ کہ اس کی سند میں واقدی راوی ہے اور اس کے متعلق کلام معروف ہے۔ [السيل الجرار 721/1]
واقدی راوی کے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم رحمہ الله نے کہا ہے کہ یہ متروک ہے۔
امام احمد رحمہ الله نے اسے کذاب کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ احادیث بدل دیتاتھا۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس کے متعلق کہا ہے کہ اس میں ضعف ہے اور امام ابن عدی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی احادیث محفوظ نہیں ہیں۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: [ميزان الاعتدال 273/6 برقم 7999]