المنتقى ابن الجارود
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud
كتاب الصلاة
Book of Prayer
Forgetfulness in prayer
Hadith Number: 247
حدثنا محمد بن يحيى ، قال: ثنا محمد بن عبد الله بن المثني الانصاري ، قال: اني اشعث ، عن محمد بن سيرين ، عن خالد الحذاء ، عن ابي قلابة ، عن ابي المهلب ، عن عمران بن حصين رضي الله عنه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلى بهم فسهى في صلاته، فسجد سجدتي السهو ثم تشهد ثم سلم" .
Sayyiduna Imran bin Husayn (may Allah be pleased with him) narrates that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) led them in prayer. He forgot during the prayer, then the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) performed two prostrations of forgetfulness, then recited the tashahhud and concluded with salam.
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن أبي داود: 1039، سنن الترمذي: 395، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1062) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2670، 2672) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/323) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، ”ثم تشہد“ کے الفاظ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے صرف اشعث بن عبد الملک حرانی رحمہ اللہ نے بیان کیے ہیں اور وہ ثقہ ہیں، لہذا یہ زیادت محفوظ ہے، باقی رہا محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا یہ کہنا: «لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَهُّدِ وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ» ”میں نے تشہد کے بارے میں کچھ نہیں سنا، تشہد بیٹھنا ہی مجھے محبوب ہے۔“ (سنن أبي داود: 1040) تو یہ اس روایت کے لیے موجبِ ضعف نہیں، یہ انسی بعد ما حدث کے قبیل سے ہے، لہذا امام ابن منذر رحمہ اللہ (الاوسط: 3/317) امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 2/355) اور حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (التمہید: 10/209) وغیرہ کا ”ثم تشہد“ کے الفاظ کو خطا اور غیر ثابت کہنا صحیح نہیں۔»
الرواة الحديث:
معاوية بن عمرو البصري ← عمران بن حصين الأزدي